سنن نسائی حدیث ۳۰۵۴ - مزدلفہ سے روانگی کی رفتار
مزدلفہ سے واپسی میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی رفتار
سنن نسائی : ۳۰۵۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۵۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَهُ ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ ؟ قَالَ : " كَانَيُسَيِّرُ نَاقَتَهُ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ " .
عروہ روایت:
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے لوٹتے وقت کیسے چل رہے تھے؟ تو انہوں نے کہا: اپنی اونٹنی کو عام رفتار سے چلا رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو تیز بھگاتے۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے لوٹتے وقت کیسے چل رہے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ اپنی اونٹنی کو عام رفتار سے چلا رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو تیز چلاتے۔ اس روایت میں حج کے سفر کا ایک عملی پہلو بیان ہوا ہے۔ نہ ہر جگہ تیزی کا ذکر ہے، نہ ہر وقت آہستہ چلنے کا؛ بلکہ راستے کی حالت کے مطابق رفتار کا بیان ہے۔ یہ حدیث مزدلفہ سے منیٰ روانگی، حجۃ الوداع اور سفر حج کے ادب کو سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام جگہ پر معمول کی رفتار سے چلتے تھے۔
- خالی جگہ ملنے پر سواری کو تیز چلانے کا ذکر ہے۔
- حج کے سفر میں راستے اور لوگوں کی حالت کا لحاظ نظر آتا ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی تفصیل محفوظ کی۔
