سنن نسائی حدیث ۳۰۶۳ - رمی میں دھکم پیل نہیں
رمی جمرہ میں سکون اور نرمی کی تعلیم
سنن نسائی : ۳۰۶۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۶۳
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ ، لَا ضَرْبَ وَلَا طَرْدَ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ " .
قدامہ بن عبداللہ روایت:
میں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سرخ و سفید اونٹنی پر سوار جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، نہ کوئی مار رہا تھا، نہ بھگا رہا، نہ ہٹو ہٹو کہہ رہا تھا۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۶۳ کا خلاصہ
قدامہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں جمرہ عقبہ کی رمی کا بہت واضح اور عملی منظر ملتا ہے۔ انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم کو قربانی کے دن اپنی سرخ و سفید اونٹنی پر سوار ہو کر رمی کرتے دیکھا۔ خاص بات یہ ہے کہ وہاں نہ کسی کو مارا جا رہا تھا، نہ کسی کو بھگایا جا رہا تھا، اور نہ ہٹو ہٹو کی آوازیں تھیں۔ اس حدیث کا اہم سبق یہ ہے کہ رمی جمرہ میں سکون، وقار اور لوگوں کے لیے آسانی ہونی چاہیے۔ حج ایک عبادت ہے، اس میں جلد بازی، سختی اور بے آرامی سے بچنا چاہیے۔ رمی جمار کی حدیث تلاش کرنے والے لوگوں کے لیے یہ روایت بہت اہم ہے، کیونکہ یہ بتاتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ نرمی اور نظم والا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمی کرتے وقت لوگوں کو تکلیف دینا درست طرز عمل نہیں۔
- حج کے اعمال سکون اور وقار کے ساتھ ادا کیے جائیں۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے رمی کے موقع پر سختی یا دھکم پیل کا انداز اختیار نہیں کیا۔
- عبادت میں دوسروں کی آسانی کا خیال رکھنا چاہیے۔
