سنن نسائی حدیث ۳۰۶۸ - مزدلفہ سے رات میں روانگی
مزدلفہ سے رات میں روانگی اور جمرہ عقبہ کی رمی
سنن نسائی : ۳۰۶۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۶۸
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ إِحْدَى نِسَائِهِ أَنْ تَنْفِرَ مِنْ جَمْعٍ لَيْلَةَ جَمْعٍ ، فَتَأْتِيَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَتَرْمِيَهَا ، وَتُصْبِحَ فِي مَنْزِلِهَا " , وَكَانَ عَطَاءٌ يَفْعَلُهُ حَتَّى مَاتَ .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کو حکم دیا کہ وہ مزدلفہ کی رات ہی میں مزدلفہ سے کوچ کر جائیں، اور جمرہ عقبہ کے پاس آ کر اس کی رمی کر لیں، اور اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر صبح کریں۔ اور عطا اپنی وفات تک ایسے ہی کرتے رہے۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۶۸ کا خلاصہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی ایک بیوی کو حکم دیا کہ وہ مزدلفہ کی رات ہی مزدلفہ سے روانہ ہوں، جمرہ عقبہ کے پاس پہنچ کر رمی کریں، پھر اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر صبح کریں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع مزدلفہ سے روانگی اور جمرہ عقبہ کی رمی ہے۔ روایت کے آخر میں آتا ہے کہ عطاء اپنی وفات تک ایسا ہی کرتے رہے۔ اس حدیث میں ایک خاص عمل کا بیان ہے، اس لیے اس کی تشریح میں حد سے بڑھنے کے بجائے متن ہی پر رہنا بہتر ہے۔ یہاں رمی جمرہ، مزدلفہ کی رات اور حج کے عملی طریقے کی ایک صورت سامنے آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مزدلفہ کی رات روانگی کی ایک صورت حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
- جمرہ عقبہ کی رمی اس روانگی کے بعد ذکر کی گئی ہے۔
- حدیث میں عمل کی ترتیب واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔
- تابعی عطاء رحمہ اللہ اس روایت کے مطابق عمل کرتے رہے۔
