سنن نسائی حدیث ۳۰۶۷ - اہل خانہ کو پہلے بھیجنا
اہل خانہ کو پہلے بھیجنا اور رمی کا وقت
سنن نسائی : ۳۰۶۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۶۷
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ أَهْلَهُ " وَأَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو (رات میں) پہلے ہی بھیج دیا اور انہیں حکم دیا کہ جب تک سورج نہ نکل آئے جمرہ کی رمی نہ کریں۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے گھر والوں کو رات میں پہلے ہی بھیج دیا، لیکن ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ جب تک سورج نہ نکل آئے جمرہ کی رمی نہ کریں۔ اس روایت میں دو باتیں صاف ہیں: پہلے روانگی کی اجازت، اور رمی کے وقت کی پابندی۔ اس کا مرکزی موضوع رمی جمرہ کا وقت اور اہل خانہ کے لیے آسانی ہے۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر شخص کے لیے ہر حالت میں ایک ہی حکم ہے، بلکہ جو بات متن میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے اہل کو پہلے بھیجا، مگر رمی کو سورج نکلنے کے بعد تک مؤخر رکھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے گھر والوں کو پہلے روانہ کیا۔
- پہلے روانگی کے باوجود رمی کے وقت کا حکم دیا گیا۔
- حج کے اعمال میں آسانی اور ترتیب دونوں موجود ہیں۔
- جمرہ کی رمی کو سورج نکلنے سے پہلے نہ کرنے کا حکم یہاں بیان ہوا ہے۔
