سنن نسائی حدیث ۳۰۷۱ - منیٰ میں رات نہ گزارنے کی رخصت
چرواہوں کو منیٰ میں بیتوتہ کی رخصت
سنن نسائی : ۳۰۷۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۷۱
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرُّعَاةِ فِي الْبَيْتُوتَةِ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ ، وَالْيَوْمَيْنِ اللَّذَيْنِ بَعْدَهُ يَجْمَعُونَهُمَا فِي أَحَدِهِمَا " .
عاصم بن عدی روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو منیٰ میں رات میں نہ رہنے کی رخصت دی ہے۔ وہ یوم النحر (یعنی دسویں تاریخ) کو رمی کریں، اور پھر اس کے بعد دونوں دنوں کو کسی ایک دن میں جمع کر لیں)۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے چرواہوں کو منیٰ میں رات گزارنے کے بارے میں رخصت دی۔ وہ یوم النحر کو رمی کریں، پھر اس کے بعد کے دو دنوں کی رمی کو کسی ایک دن میں جمع کر لیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع منیٰ میں بیتوتہ کی رخصت اور رمی جمار ہے۔ یہاں عام بیان نہیں، بلکہ چرواہوں کے بارے میں خاص اجازت مذکور ہے۔ رمی جمرہ کے مسائل پڑھنے والوں کے لیے یہ حدیث بتاتی ہے کہ حج کے کاموں میں کبھی لوگوں کی ذمہ داری اور حالت کا لحاظ بھی کیا گیا۔ متن میں چرواہوں، منیٰ، یوم النحر اور بعد کے دنوں کی رمی کا ذکر صاف الفاظ میں موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چرواہوں کو منیٰ میں رات نہ رہنے کی رخصت دی گئی۔
- یوم النحر کی رمی الگ بیان ہوئی ہے۔
- بعد کے دو دنوں کی رمی ایک دن میں جمع کرنے کا ذکر ہے۔
- رخصت کا تعلق متن میں خاص طور پر چرواہوں سے ہے۔
