سنن نسائی حدیث ۳۰۷۰ - چرواہوں کے لیے رمی کی رخصت

چرواہوں کے لیے رمی جمار میں رخصت

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۷۰

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرُّعَاةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا ، وَيَدَعُوا يَوْمًا " .

عاصم بن عدی بن جدا القضاعی روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن رمی کرنے کی رخصت دی ہے، (اس لیے کہ وہ اونٹوں کو ادھر ادھر چرانے لے جانے کی وجہ سے ہر روز منیٰ نہیں پہنچ سکتے تھے)۔

سنن نسائی حدیث ۳۰۷۰ کا خلاصہ

عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کی روایت میں نبی صلى الله عليه وسلم کی طرف سے چرواہوں کے لیے رخصت کا بیان ہے۔ وہ ہر دن منیٰ پہنچنے کی حالت میں نہیں تھے، کیونکہ انہیں اونٹوں کو چرانے کے لیے ادھر ادھر جانا ہوتا تھا۔ حدیث میں آیا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے چرواہوں کو اجازت دی کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع حج میں رخصت اور رمی جمار ہے۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص پر خدمت یا ذمہ داری ہو، اس کے لیے بعض صورتوں میں آسانی دی گئی۔ اس روایت میں خاص طور پر چرواہوں کا ذکر ہے، اس لیے بات کو اسی دائرے میں سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چرواہوں کے لیے رمی میں خاص رخصت بیان ہوئی ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ذمہ داری رکھنے والوں کی حالت کا لحاظ فرمایا۔
  • حج کے اعمال میں ضرورت کے وقت آسانی کا پہلو موجود ہے۔
  • رمی جمار کے مسائل میں حدیث کے الفاظ کو سامنے رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں