سنن نسائی حدیث ۳۱۲۰ - صبح و شام اللہ کے راستے میں نکلنا
اللہ کے راستے کی ایک صبح یا شام کی فضیلت
سنن نسائی : ۳۱۲۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۲۰
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْغَدْوَةُ وَالرَّوْحَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَفْضَلُ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
سہل بن سعد روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے یعنی جہاد میں صبح یا شام (کسی وقت بھی نکلنا) دنیا وما فیہا سے افضل و بہتر ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کے راستے میں صبح یا شام نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سب سے افضل ہے۔ حدیث میں الغدوة اور الروحة کے الفاظ آئے ہیں، یعنی دن کے آغاز یا آخر کا وقت۔ اس سے اللہ کے راستے میں ایک مختصر وقت کی بھی بڑی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ دنیا کی چیزیں انسان کو بڑی لگتی ہیں، مگر اس حدیث میں بتایا گیا کہ اللہ کے لیے کیا گیا عمل دنیا کی چیزوں سے بڑھ کر ہے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ بندہ دنیا کی قیمت جانتے ہوئے بھی آخرت والے عمل کو زیادہ اہم سمجھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے راستے میں تھوڑا سا وقت بھی بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
- دنیا کی چیزیں آخرت کے عمل کے مقابلے میں کم تر ہیں۔
- مومن کو اللہ کے لیے کیے گئے عمل کی قدر کرنی چاہیے۔
- نیکی کا وزن اللہ کے ہاں دنیاوی پیمانوں سے مختلف ہے۔
