سنن نسائی حدیث ۳۱۲۱ - صبح یا شام کا عمل دنیا سے بہتر

اللہ کے راستے میں صبح یا شام کی قدر

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۲۱

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ " .

ابوایوب انصاری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد میں صبح کو نکلنا ہو، یا شام کے وقت یہ کائنات کی ان تمام چیزوں سے افضل و برتر ہے جن پر سورج نکلتا اور ڈوبتا ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد میں صبح کو نکلنا یا شام کے وقت نکلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج نکلتا اور ڈوبتا ہے۔ یہ انداز دنیا کی وسعت سمجھانے کے لیے ہے۔ انسان کے سامنے دنیا کی ہر چیز بڑی لگتی ہے، مگر حدیث بتاتی ہے کہ اللہ کے راستے میں کیا گیا عمل ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہاں غدوہ اور روحہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مومن آخرت کے عمل کو صرف معمولی وقت نہ سمجھے۔ اللہ کے لیے کیا گیا وقت، قدم اور محنت بندے کے لیے بہت قیمتی ہو سکتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام بھی بڑی فضیلت رکھتی ہے۔
  • دنیا کی ساری کشش آخرت کے عمل کے برابر نہیں ہو سکتی۔
  • مومن کو اللہ کے لیے وقت دینے کی قدر کرنی چاہیے۔
  • حدیث نیکی کے مختصر موقع کو بھی اہم سمجھنے کی تعلیم دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں