سنن نسائی حدیث ۳۱۲۲ - تین لوگوں کے لیے اللہ کی مدد
اللہ کی مدد کے مستحق تین لوگ
سنن نسائی : ۳۱۲۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۲۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُ : الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگ ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق اور واجب ہے، (ایک) اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا (دوسرا) ایسا نکاح کرنے والا، جو نکاح کے ذریعہ پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو (تیسرا) وہ مکاتب جو مکاتبت کی رقم ادا کر کے آزاد ہو جانے کی کوشش کر رہا ہو“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۲۲ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت صاف انداز میں بتاتی ہے کہ کچھ نیک ارادے ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی خاص مدد کی امید دی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین لوگوں کا ذکر فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، وہ شخص جو نکاح کے ذریعے پاکدامنی کی زندگی چاہتا ہو، اور وہ مکاتب جو رقم ادا کر کے آزادی حاصل کرنا چاہتا ہو۔ اس حدیث کا اصل پیغام نیت اور نیک مقصد ہے۔ یہاں مدد کا تعلق دنیاوی کوشش کے ساتھ ہے؛ آدمی قدم اٹھاتا ہے، پاک ارادہ رکھتا ہے، پھر اللہ سے مدد کی امید رکھتا ہے۔ اسی لیے یہ حدیث جہاد فی سبیل اللہ، نکاح برائے پاکدامنی، اور آزادی کی کوشش جیسے موضوعات پر بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک مقصد کے ساتھ کی گئی کوشش اللہ کی مدد کا سبب بن سکتی ہے۔
- نکاح کا ایک پاک مقصد انسان کو گناہ سے بچانا ہے۔
- آزادی حاصل کرنے کی جائز کوشش کو حدیث میں قدر دی گئی ہے۔
- صرف دعویٰ کافی نہیں، بندے کو اپنی طرف سے کوشش بھی کرنی چاہیے۔
