سنن نسائی حدیث ۳۱۲۳ - اللہ کے وفد میں تین لوگ

مجاہد، حاجی اور عمرہ کرنے والا اللہ کا وفد

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۲۳

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَفْدُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ : الْغَازِي ، وَالْحَاجُّ ، وَالْمُعْتَمِرُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے وفد میں تین (طرح کے لوگ شامل) ہیں (ایک) مجاہد (دوسرا) حاجی، (تیسرا) عمرہ کرنے والا“۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۲۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طرح کے لوگوں کو اللہ کا وفد فرمایا: غازی یعنی اللہ کے راستے میں نکلنے والا، حاجی، اور عمرہ کرنے والا۔ وفد عام طور پر اس جماعت کو کہا جاتا ہے جو کسی بڑے مقصد کے لیے کسی کے پاس حاضر ہو۔ اس حدیث میں ان تین اعمال کی شان بتائی گئی ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ، حج اور عمرہ تینوں میں انسان اپنے آرام، وقت اور مال کو اللہ کے حکم کے لیے لگاتا ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ جب بندہ خلوص کے ساتھ اللہ کی طرف سفر یا کوشش کرتا ہے تو اس کی حیثیت اللہ کے نزدیک خاص ہو جاتی ہے۔ اس میں حاجی اور معتمر کی فضیلت بھی سامنے آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج اور عمرہ اللہ کے نزدیک بڑی قدر والی عبادات ہیں۔
  • اللہ کے راستے میں نکلنے والے کی حیثیت خاص بیان ہوئی ہے۔
  • نیک سفر میں نیت اور مقصد دونوں اہم ہیں۔
  • عبادت کے لیے گھر سے نکلنا بھی اللہ کے ہاں قابل قدر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں