سنن نسائی حدیث ۳۱۳۲ - ایمان، جہاد اور حج مبرور
ایمان، جہاد اور حج مبرور کی فضیلت
سنن نسائی : ۳۱۳۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۳۲
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ " قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ، قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " حَجٌّ مَبْرُورٌ " .
ابوہریرہ روایت:
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا“، اس نے کہا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا“، اس نے کہا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا حج جو اللہ کے نزدیک قبول ہو جائے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان۔ اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد۔ اس نے پھر پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: حج مبرور۔ اس حدیث میں سوال و جواب کے انداز سے چند بڑے اعمال کی فضیلت سامنے آتی ہے۔ سب سے پہلے ایمان کا ذکر ہے، کیونکہ ایمان کے بغیر عمل کی اصل بنیاد درست نہیں ہوتی۔ پھر جہاد فی سبیل اللہ کا ذکر آیا، اور پھر ایسے حج کا ذکر ہوا جو اللہ کے نزدیک قبول ہو جائے۔ حدیث ہمیں اعمال کی قدر سمجھاتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی بتاتی ہے کہ قبولیت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کو بہترین عمل کے طور پر پہلے بیان کیا گیا ہے۔
- جہاد فی سبیل اللہ کو بڑے اعمال میں شمار کیا گیا ہے۔
- حج مبرور کی خاص فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- دین میں سوال کر کے علم حاصل کرنا پسندیدہ طریقہ ہے۔
