سنن نسائی حدیث ۳۱۳۳ - ایمان کے اقرار اور جہاد کے درجے
جنت کے درجات اور جہاد فی سبیل اللہ
سنن نسائی : ۳۱۳۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۳۳
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ , " مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " ، قَالَ : فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَفَعَلَ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " ، قَالَ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوسعید! جو شخص راضی ہو گیا اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کو بطور دین قبول کر لیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کر لیا، تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی، (راوی کہتے ہیں) یہ کلمات ابوسعید کو بہت بھلے لگے۔ (چنانچہ) عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کلمات کو آپ مجھے ذرا دوبارہ سنا دیجئیے، تو آپ نے دہرا دیا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن جنت میں بندے کو سو درجوں کی بلندی تک پہنچانے کے لیے ایک دوسری عبادت بھی ہے (اور درجے بھی کیسے؟) ایک درجہ کا فاصلہ دوسرے درجے سے اتنا ہے جتنا فاصلہ آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا: یہ دوسری عبادت کیا ہے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: (یہ دوسری عبادت) اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے رب ہونے پر راضی ہو، اسلام کو دین مانے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ کو یہ کلمات بہت پسند آئے، اس لیے انہوں نے دوبارہ سنانے کی درخواست کی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسری عبادت کا ذکر فرمایا جس سے بندہ جنت میں سو درجے بلند کیا جاتا ہے، اور ہر دو درجوں کے درمیان آسمان و زمین جیسا فاصلہ ہے۔ پوچھا گیا کہ وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد، اللہ کے راستے میں جہاد۔ حدیث میں ایمان کے اقرار اور جہاد کے بلند مقام دونوں کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کو رب، اسلام کو دین، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی ماننا ایمان کی بڑی بات ہے۔
- جنت کے درجات میں بہت فرق بیان کیا گیا ہے۔
- جہاد فی سبیل اللہ سے بلند درجات کا ذکر آیا ہے۔
- اچھی بات دوبارہ سننے کی خواہش بھی علم سے محبت کی نشانی ہے۔
