سنن نسائی حدیث ۳۱۳۴ - نماز، زکاۃ، توحید اور جہاد کے درجات
توحید، نماز، زکاۃ اور مجاہدین کے درجات
سنن نسائی : ۳۱۳۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۳۴
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ سُمَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " مَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ ، وَآتَى الزَّكَاةَ ، وَمَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ , هَاجَرَ أَوْ مَاتَ فِي مَوْلِدِهِ " , فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَا نُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا بِهَا ؟ فَقَالَ : " إِنَّ لِلْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ ، بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ ، وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي ، مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ ، ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ " .
ابو الدرداء روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز قائم کی اور زکاۃ دی، اور اللہ کے ساتھ کسی طرح کا شرک کئے بغیر مرا تو چاہے ہجرت کر کے مرا ہو یا (بلا ہجرت کے) اپنے وطن میں مرا ہو، اللہ پر اس کا یہ حق بنتا ہے کہ اللہ اسے بخش دے، ہم صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم یہ خبر لوگوں کو نہ پہنچا دیں جسے سن کر لوگ خوش ہو جائیں؟آپ نے فرمایا: ”جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجے کے درمیان آسمان و زمین اتنا فاصلہ ہے، اور یہ درجے اللہ تعالیٰ نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے بنائے ہیں، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں مسلمانوں کو مشکل و مشقت میں ڈال دوں گا اور انہیں سوار کرا کے لے جانے کے لیے سواری نہ پاؤں گا اور میرے بعد میرا ساتھ چھوٹ جانے کی انہیں ناگواری اور تکلیف ہو گی تو میں کسی سریہ (فوجی دستے) کے ساتھ جانے سے بھی نہ چوکتا اور میں تو پسند کرتا اور چاہتا ہوں کہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، اور پھر قتل کیا جاؤں“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں کئی اہم باتیں ایک ساتھ بیان ہوئی ہیں، مگر ہر بات اپنی جگہ واضح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز قائم کی، زکاۃ دی، اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیے بغیر مرا، اللہ پر اس کا حق ہے کہ وہ اسے بخش دے، خواہ اس نے ہجرت کی ہو یا اپنے وطن میں فوت ہوا ہو۔ صحابہ نے چاہا کہ یہ خوش خبری لوگوں کو بتا دیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کے سو درجات کا ذکر فرمایا جو اللہ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کیے ہیں۔ پھر آپ نے اپنی امت پر مشقت نہ ڈالنے کا خیال بھی بیان فرمایا۔ حدیث میں توحید، نماز، زکاۃ، مغفرت، جہاد اور امت پر شفقت سب موجود ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شرک سے بچتے ہوئے نماز اور زکاۃ کی پابندی بڑی اہم ہے۔
- اللہ کی مغفرت کا ذکر حدیث کے الفاظ میں آیا ہے۔
- مجاہدین کے لیے جنت کے سو درجات بیان ہوئے ہیں۔
- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امت پر مشقت نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔
