سنن نسائی حدیث ۳۱۳۱ - سب سے بہتر عمل ایمان اور جہاد
بہترین عمل: اللہ پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ
سنن نسائی : ۳۱۳۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۳۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ اللَّيْثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ سَأَلَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ابوذر روایت:
´ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ جواب مختصر ہے مگر بہت جامع ہے۔ ایمان ہر نیک عمل کی بنیاد ہے، اور جہاد فی سبیل اللہ اس ایمان کے تقاضے کے طور پر ایک بڑا عمل ہے۔ حدیث میں لمبی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ہمیں بھی اسی بات پر رہنا چاہیے کہ یہاں بہترین عمل کے طور پر ایمان اور جہاد کا ذکر ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پر صحیح ایمان بندے کی زندگی کا اصل رخ درست کرتا ہے، اور اللہ کے لیے قربانی دینا اس ایمان کی سچی علامت بن سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان نیک اعمال کی بنیاد ہے۔
- اللہ کے راستے میں جہاد کو بہترین اعمال میں شمار کیا گیا ہے۔
- دینی سوال پوچھنا صحابہ کی اچھی عادت تھی۔
- مختصر جواب بھی بڑے معنی رکھ سکتا ہے۔
