سنن نسائی حدیث ۳۱۳۰ - جہاد کے برابر عمل کی مثال
جہاد کے برابر عمل کون کر سکتا ہے؟
سنن نسائی : ۳۱۳۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۳۰
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ ، أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ ؟ قَالَ : " لَا أَجِدُهُ هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ تَدْخُلُ مَسْجِدًا ، فَتَقُومَ لَا تَفْتُرَ ، وَتَصُومَ لَا تُفْطِرَ ؟ " , قَالَ : مَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ؟ .
ابوہریرہ روایت:
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، پھر اس نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو (یعنی وہی درجہ رکھتا ہو) آپ نے فرمایا: ”میں نہیں پاتا کہ تو وہ کر سکے گا، جب مجاہد جہاد کے لیے (گھر سے) نکلے تو تم مسجد میں داخل ہو جاؤ، اور کھڑے ہو کر نمازیں پڑھنی شروع کرو (اور پڑھتے ہی رہو) پڑھنے میں کوتاہی نہ کرو، اور روزے رکھو (رکھتے جاؤ) افطار نہ کرو“، اس نے کہا یہ کون کر سکتا ہے؟۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نہیں پاتا کہ تم وہ کر سکو گے۔ پھر مثال دی کہ جب مجاہد گھر سے نکلے تو تم مسجد میں داخل ہو جاؤ، برابر نماز پڑھتے رہو اور تھکو نہیں، روزہ رکھتے رہو اور افطار نہ کرو۔ اس شخص نے کہا: یہ کون کر سکتا ہے؟ حدیث کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کی مشقت اور اجر کا مقام بہت بڑا ہے۔ یہاں مسلسل نماز اور مسلسل روزے کی مثال دے کر بات سمجھائی گئی، نہ کہ عام لوگوں پر ایسا عمل لازم کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر عمل کا اپنا مقام اور اپنی مشقت ہوتی ہے۔
- جہاد کے برابر عمل پوچھنے پر بہت سخت عبادت کی مثال دی گئی۔
- انسان کو بڑے اعمال کے مقام کو سمجھنا چاہیے۔
- حدیث میں پوچھنے والے نے خود اس مثال کی دشواری کو مانا۔
