سنن نسائی حدیث ۳۱۲۶ - مجاہد کی مثال روزہ دار نمازی جیسی
مجاہد فی سبیل اللہ کی مثال روزہ دار عبادت گزار جیسی
سنن نسائی : ۳۱۲۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۲۶
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ ، وَتَوَكَّلَ اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ ، بِأَنْ يَتَوَفَّاهُ فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ يُرْجِعَهُ سَالِمًا بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ ، أَوْ غَنِيمَةٍ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال (اور اللہ کو معلوم ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے) دن بھر روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ذمہ لیا ہے کہ اسے موت دے گا، تو اسے جنت میں داخل کرے گا یا (موت نہیں دے گا تو) صحیح و سالم حالت میں اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے حاصل ہوا ہے اسے واپس اس کے گھر بھیج دے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں مجاہد فی سبیل اللہ کی فضیلت ایک ایسی مثال سے سمجھائی گئی ہے جسے ہر مسلمان آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال دن بھر روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے جیسی ہے۔ ساتھ ہی فرمایا گیا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ واقعی اس کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے۔ اس جملے میں نیت کی بڑی یاد دہانی ہے۔ صرف نام یا دعویٰ کافی نہیں، اصل حال اللہ جانتا ہے۔ پھر حدیث میں بتایا گیا کہ اللہ مجاہد کو جنت میں داخل کرے گا یا اسے سلامتی کے ساتھ اجر و غنیمت دے کر واپس کرے گا۔ اس سے عبادت، صبر اور خلوص کا تعلق سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ ہی جانتا ہے کہ کون واقعی اس کے راستے میں ہے۔
- سچے مجاہد کی مثال مسلسل عبادت کرنے والے سے دی گئی ہے۔
- نیت کے بغیر ظاہری عمل کا دعویٰ کافی نہیں۔
- اللہ کے لیے کی گئی کوشش کا اجر محفوظ رہتا ہے۔
