سنن نسائی حدیث ۳۱۲۵ - ایمان کے ساتھ جہاد کا اجر
ایمان کے تقاضے سے جہاد کرنے والے کا اجر
سنن نسائی : ۳۱۲۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۲۵
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَاب ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي ، أَنَّهُ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِأَيِّهِمَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ ، أَوْ وَفَاةٍ ، أَوْ أَرُدَّهُ ، إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَالَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ ، أَوْ غَنِيمَةٍ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کے راستے میں نکلتا ہے (یعنی جہاد کے لیے) اور اس کا یہ نکلنا محض اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے، اور اس کے راستے میں جہاد کے جذبے سے ہے (تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو) اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو، یا اپنی فطری موت پائی ہو، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو، اور جو بھی ملا ہو، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۲۵ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے معنی کو مزید کھولتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں نکلتا ہے، اور اس کا نکلنا صرف اللہ پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کے جذبے کی وجہ سے ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے ذمہ لیتا ہے۔ پھر حدیث میں بتایا گیا کہ وہ قتل ہو کر فوت ہو، اپنی موت مرے، یا زندہ واپس آئے، اس کے لیے خیر کا معاملہ ہے۔ اگر واپس آئے تو اجر و ثواب اور جو مال غنیمت ملا ہو، اس کے ساتھ اپنے گھر لوٹایا جائے گا۔ اس حدیث کا اصل مرکز نیت، ایمان، اور اللہ کی راہ میں کوشش ہے۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ ظاہری نتیجہ مختلف ہو سکتا ہے، مگر خالص مقصد ضائع نہیں جاتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کے ساتھ کیا گیا عمل اللہ کے ہاں قدر رکھتا ہے۔
- مجاہد کا انجام حدیث کے مطابق خیر کے دائرے میں بیان ہوا ہے۔
- اجر صرف ظاہری کامیابی پر موقوف نہیں۔
- نیت اللہ کے لیے ہو تو کوشش کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
