سنن نسائی حدیث ۳۱۱۹ - اللہ کے راستے میں جاگنے والی آنکھ
اللہ کے راستے میں جاگنے والی آنکھ کی فضیلت
سنن نسائی : ۳۱۱۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۱۹
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَاب ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ شُمَيْرٍ الرُّعَيْنِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ التُّجِيبِيَّ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رَيْحَانَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " حُرِّمَتْ عَيْنٌ عَلَى النَّارِ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
ابوریحانہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو آنکھ اللہ کے راستے میں جاگی ہو وہ آنکھ جہنم پر حرام ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو آنکھ اللہ کے راستے میں جاگی ہو وہ آنکھ جہنم پر حرام ہے۔ روایت مختصر ہے مگر اس کا پیغام بہت واضح ہے۔ اللہ کے راستے میں رات جاگنا، پہرا دینا یا دینی ذمہ داری کی وجہ سے بیدار رہنا معمولی عمل نہیں۔ حدیث میں خاص طور پر آنکھ کا ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ نیند چھوڑنا ایک مشقت ہے۔ یہ فضیلت اسی جاگنے کے بارے میں ہے جو اللہ کے راستے میں ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بندہ جب اللہ کے لیے اپنی راحت چھوڑتا ہے تو وہ عمل اللہ کے ہاں بہت قیمتی ہو جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے لیے راحت چھوڑنا بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
- اللہ کے راستے میں جاگنے والی آنکھ کا خاص ذکر آیا ہے۔
- دینی ذمہ داری میں برداشت کی گئی مشقت قابل قدر ہے۔
- بندے کو اپنی نیت اللہ کے لیے درست رکھنی چاہیے۔
