سنن نسائی حدیث ۳۱۱۸ - اللہ کے راستے میں گرد آلود قدم

اللہ کے راستے میں گرد آلود قدموں کی فضیلت

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۱۸

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : لَحِقَنِي عَبَايَةُ بْنُ رَافِعٍ وَأَنَا مَاشٍ إِلَى الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ : أَبْشِرْ فَإِنَّ خُطَاكَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ حَرَامٌ عَلَى النَّارِ " .

یزید بن ابی مریم روایت:

میں جمعہ کی نماز کے لیے جا رہا تھا کہ (راستے میں) مجھے عبایہ بن رافع ملے، کہا: خوش ہو جاؤ! آپ کے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں (کیونکہ) میں نے ابوعبس بن جبر انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دونوں قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہو جائیں تو وہ آگ یعنی جہنم کے لیے حرام ہے“ ۱؎۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں یزید بن ابی مریم کہتے ہیں کہ وہ جمعہ کی نماز کے لیے جا رہے تھے۔ راستے میں عبایہ بن رافع ملے اور انہوں نے خوش خبری دی کہ تمہارے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں۔ پھر انہوں نے ابو عبس بن جبر انصاری رضی اللہ عنہ سے سنی ہوئی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے دونوں قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہو جائیں تو وہ آگ کے لیے حرام ہے۔ اس حدیث میں اللہ کے راستے میں چلنے، نیکی کے لیے قدم اٹھانے اور مشقت برداشت کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ روایت میں جمعہ کی طرف چلنے کو بھی اللہ کے راستے کے قدموں میں شمار کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیکی کے لیے اٹھنے والے قدم اللہ کے ہاں قدر رکھتے ہیں۔
  • جمعہ کی نماز کی طرف چلنا بھی فضیلت والا عمل ہے۔
  • اللہ کے راستے کی مشقت بندے کے لیے خیر کا سبب بنتی ہے۔
  • دوسرے مسلمان کو نیکی پر خوش خبری دینا اچھا عمل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں