سنن نسائی حدیث ۳۱۱۶ - غبار، دھواں اور دل کا ایمان
اللہ کے راستے کا غبار اور دل میں ایمان
سنن نسائی : ۳۱۱۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۱۶
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ ، وَلَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں مومن کے نتھنے میں جمع نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی کسی مسلمان کے نتھنے میں بخل اور ایمان اکٹھا ہو سکتے ہیں“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں مومن کے نتھنے میں جمع نہیں ہو سکتے۔ پھر فرمایا کہ کسی مسلمان کے دل میں بخل اور ایمان اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اس روایت میں دو مضبوط پیغام ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کے راستے میں مشقت اٹھانے کی فضیلت ہے۔ دوسرا یہ کہ ایمان دل کو سخت بخل سے پاک کرتا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ کے لیے عمل کرے اور اپنے دل میں کنجوسی، تنگ دلی اور خود غرضی کو جگہ نہ دے۔ حدیث ہمیں ظاہر کی محنت اور باطن کی اصلاح دونوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے راستے کا غبار مومن کے لیے فضیلت کا سبب بیان ہوا ہے۔
- ایمان دل کو بخل سے پاک کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
- مسلمان کو اندرونی اخلاق کی اصلاح بھی کرنی چاہیے۔
- نیکی کی مشقت اور دل کی سخاوت دونوں پسندیدہ صفات ہیں۔
