سنن نسائی حدیث ۳۱۱۷ - ایمان اور بخالت ایک ساتھ نہیں

ایمان، بخالت اور اللہ کے راستے کی مشقت

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۱۷

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ اللَّيْثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدُخَانَ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، وَلَا يَجْمَعُ اللَّهُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، الْإِيمَانَ بِاللَّهِ وَالشُّحَّ جَمِيعًا " .

ابوہریرہ روایت:

اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی مسلمان شخص کے پیٹ میں اللہ عزوجل اکٹھا نہ کرے گا، اور نہ ہی کسی مسلمان کے دل میں اللہ پر ایمان اور بخالت (کنجوسی) کو اللہ تعالیٰ ایک ساتھ جمع کرے گا۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۱۷ کا خلاصہ

اس روایت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل ہوا ہے کہ اللہ عزوجل کسی مسلمان شخص کے پیٹ میں اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہ کرے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کسی مسلمان کے دل میں اللہ پر ایمان اور بخالت کو ایک ساتھ جمع نہ کرے گا۔ اس حدیث میں ایمان کے ساتھ دل کی صفائی کا تعلق بیان ہوا ہے۔ بخالت دل کو تنگ کرتی ہے، جبکہ ایمان بندے کو اللہ پر بھروسہ اور خیر کے کاموں کی طرف لاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کے راستے کی مشقت، جیسے غبار آلود ہونا، بندے کے لیے فضیلت کا سبب بیان ہوئی ہے۔ یہ روایت مومن کو ظاہر کے عمل اور باطن کی اصلاح دونوں کی یاد دلاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایمان بندے کو بخالت سے دور کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
  • اللہ کے راستے کی مشقت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • مسلمان کو اپنے دل کی کیفیت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
  • بخل اور تنگ دلی سے بچنا ایمان کی خوبصورتی میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں