سنن نسائی حدیث ۳۱۱۴ - ایمان کے ساتھ بخل نہیں
جہاد کی گرد، جہنم کا دھواں اور ایمان
سنن نسائی : ۳۱۱۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۱۴
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ ، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي جَوْفِ عَبْدٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کی گرد اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں جمع نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی کسی بندے کے سینے میں بخل اور ایمان اکٹھا ہو سکتے ہیں“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد کی گرد اور جہنم کا دھواں کسی بندے کے سینے میں جمع نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح کسی بندے کے سینے میں بخل اور ایمان اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ حدیث میں سینے کا ذکر آیا ہے، یعنی بات دل اور اندرونی کیفیت تک پہنچتی ہے۔ ایک طرف اللہ کے راستے کی مشقت ہے، دوسری طرف جہنم کے دھوئیں سے بچاؤ کی فضیلت۔ پھر بخل کی سختی کو ایمان کے خلاف بتایا گیا۔ اس حدیث سے مومن کو یہ سبق ملتا ہے کہ وہ اپنے اندر ایمان کے ساتھ سخاوت، خیر خواہی اور اللہ کے لیے قربانی کا مزاج پیدا کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے راستے کی گرد کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- بخل دل کی ایسی خرابی ہے جس سے مومن کو بچنا چاہیے۔
- ایمان انسان کو اللہ کے لیے دینے والا بناتا ہے۔
- دین میں دل کی صفائی اور عمل دونوں اہم ہیں۔
