سنن نسائی حدیث ۳۱۱۵ - اللہ کے راستے کا غبار

مومن کے لیے اللہ کے راستے کے غبار کی فضیلت

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۱۵

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا " .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے نتھنے میں اللہ کے راستے کا غبار، اور جہنم کا دھواں کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے“۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کے نتھنے میں اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ مختصر حدیث اللہ کے راستے میں پیش آنے والی مشقت کی فضیلت بتاتی ہے۔ نتھنے میں غبار آنے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ واقعی محنت، سفر یا مشقت سے گزرا۔ حدیث کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اٹھایا گیا قدم اور برداشت کی گئی تکلیف بندے کے لیے باعث خیر ہے۔ اس میں جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ساتھ نہ جمع ہونے کی بات آئی ہے، جو مومن کے لیے بڑی امید کا سبب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے راستے میں برداشت کی گئی مشقت قابل قدر ہے۔
  • مومن کا عمل صرف ظاہر نہیں، اللہ کے ہاں اس کا وزن ہے۔
  • حدیث میں غبار کو نیکی کی مشقت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
  • بندے کو اللہ کے لیے کیے گئے عمل کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں