سنن نسائی حدیث ۳۱۰۹ - اللہ کے خوف سے رونے کی فضیلت
اللہ کے خوف سے رونا اور جہنم سے حفاظت
سنن نسائی : ۳۱۰۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۰۹
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " لَا يَبْكِي أَحَدٌ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ، فَتَطْعَمَهُ النَّارُ حَتَّى يُرَدَّ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا " .
ابوہریرہ روایت:
اللہ کے خوف سے رونے والے کو جہنم کی آگ اس وقت تک لقمہ نہیں بنا سکتی جب تک کہ (تھن سے نکلا ہوا) دودھ تھن میں واپس نہ پہنچا دیا جائے، اور کسی مسلمان کے نتھنے میں جہاد کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے خوف سے روتا ہے، اسے جہنم کی آگ اس وقت تک نہیں کھا سکتی جب تک دودھ تھن میں واپس نہ چلا جائے۔ یہ محاورہ ناممکن بات کے لیے آیا ہے، یعنی اللہ کے خوف سے سچا رونا بہت بڑی نیکی ہے۔ اسی حدیث میں یہ بھی آیا کہ مسلمان کے نتھنے میں اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ خشیت الٰہی، دل کی نرمی اور اللہ کے راستے میں مشقت اٹھانا بندے کے لیے بڑی فضیلت کا سبب ہے۔ یہاں بات دکھاوے کے آنسو کی نہیں، اللہ کے ڈر سے دل کے نرم ہونے کی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے خوف سے رونا دل کی نرمی کی علامت ہے۔
- اللہ کے راستے میں اٹھنے والی مشقت کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- مومن کے دل میں آخرت کا خوف زندہ رہنا چاہیے۔
- حدیث میں بیان کردہ فضیلت سچی خشیت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
