سنن نسائی حدیث ۳۱۱۰ - خوف خدا کے آنسو

خوف خدا کے آنسو اور اللہ کے راستے کا غبار

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۱۰

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ تَعَالَى ، حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ نَارِ جَهَنَّمَ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے خوف سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جا سکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے، اور اللہ کے راستے کا گرد و غبار اور جہنم کی آگ کا دھواں اکٹھا نہیں ہو سکتے۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جا سکتا، یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس چلا جائے۔ یہ انداز ناممکن بات سمجھانے کے لیے ہے۔ حدیث میں آگے فرمایا گیا کہ اللہ کے راستے کا گرد و غبار اور جہنم کی آگ کا دھواں اکٹھا نہیں ہو سکتے۔ اس سے خشیت الٰہی کی فضیلت اور اللہ کے راستے میں محنت کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بندہ اللہ کو یاد کر کے نرم دل ہو، اپنے انجام کو سوچے، اور نیکی کے راستے میں جو مشقت آئے اسے معمولی نہ سمجھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے خوف سے رونا ایک بڑی نیکی کے طور پر بیان ہوا ہے۔
  • نیکی کے راستے کی مشقت اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔
  • آخرت کا خیال دل کو نرم اور محتاط بناتا ہے۔
  • حدیث میں غبار اور دھوئیں کا ذکر فضیلت سمجھانے کے لیے آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں