سنن نسائی حدیث ۳۱۱۱ - ایمان، حسد اور اللہ کے راستے کا غبار
ایمان اور حسد ایک دل میں جمع نہیں ہوتے
سنن نسائی : ۳۱۱۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۱۱
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا ، ثُمَّ سَدَّدَ وَقَارَبَ ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ مُؤْمِنٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفَيْحُ جَهَنَّمَ ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالْحَسَدُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان جس نے کسی کافر کو قتل کر دیا، اور آخر تک ایمان و عقیدہ اور عمل کی درستگی پر قائم رہا تو وہ دونوں (یعنی مومن قاتل اور کافر مقتول) جہنم میں اکٹھا نہیں ہو سکتے۔ اور نہ ہی کسی مومن کے سینے میں اللہ کے راستے کا گردوغبار اور جہنم کی آگ کی لپٹ و حرارت اکٹھا ہوں گے، اور کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند باتیں بیان فرمائیں۔ ایک مسلمان جو ایمان اور عمل کی درستی پر قائم رہے، اس کے بارے میں جہنم میں کافر مقتول کے ساتھ جمع نہ ہونے کا ذکر آیا۔ پھر فرمایا گیا کہ مومن کے اندر اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کی لپٹ جمع نہیں ہو سکتے۔ آخر میں یہ بات آئی کہ کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔ اس حدیث میں ایمان کی پاکیزگی، عمل کی درستی اور دل کی بیماریوں سے بچنے کا پیغام ہے۔ خاص طور پر حسد کو ایمان کے مزاج کے خلاف بتایا گیا ہے، اس لیے مومن کو دل صاف رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کے ساتھ عمل کی درستی پر قائم رہنا اہم ہے۔
- اللہ کے راستے کی مشقت کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- حسد دل کی ایسی خرابی ہے جو ایمان کے مزاج کے خلاف ہے۔
- مومن کو اپنے ظاہر کے ساتھ دل کی حالت بھی سنبھالنی چاہیے۔
