سنن نسائی حدیث ۳۱۱۲ - بخل اور ایمان کا فرق

بخل اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہوتے

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۱۲

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا ، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے اور بخل اور ایمان یہ دونوں بھی کسی بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے“۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی بندے کے سینے میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ پھر فرمایا کہ بخل اور ایمان بھی کسی بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ حدیث میں دو باتیں ایک ساتھ سمجھائی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ اللہ کے راستے میں اٹھنے والی مشقت، جیسے غبار آلود ہونا، بڑی فضیلت رکھتی ہے۔ دوسری یہ کہ ایمان بندے کو تنگ دلی اور سخت کنجوسی سے دور کرتا ہے۔ یہاں بخل کا ذکر دل کی کمزوری کے طور پر آیا ہے۔ مومن کو اپنے دل کو کھلا، نرم اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والا بنانا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے راستے کی مشقت کا اجر اللہ کے ہاں بڑا ہے۔
  • ایمان بندے کو سخت بخل سے دور کرتا ہے۔
  • دل کی حالت بھی دین کا اہم حصہ ہے۔
  • مومن کو کنجوسی کے بجائے اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں