سنن نسائی حدیث ۳۱۱۳ - جہاد کا غبار اور ایمان
اللہ کے راستے کا غبار اور بخل سے بچاؤ
سنن نسائی : ۳۱۱۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۱۳
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي وَجْهِ رَجُلٍ أَبَدًا ، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے چہرے پر اللہ کے راستے (یعنی جہاد) میں نکلنے کی گرد اور جہنم کی آگ دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے، اور بخل اور ایمان کبھی کسی بندے کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے چہرے پر اللہ کے راستے میں نکلنے کی گرد اور جہنم کی آگ اکٹھی نہیں ہو سکتی۔ پھر فرمایا کہ بخل اور ایمان کسی بندے کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ روایت پچھلی روایات کے قریب معنی رکھتی ہے۔ یہاں چہرے پر غبار کا ذکر آیا ہے، جو اللہ کے راستے کی مشقت کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری طرف بخل دل کی تنگی ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ ایمان انسان کے دل کو اللہ کے لیے کھولتا ہے اور اسے سخت کنجوسی، خود غرضی اور دل کی تنگی سے بچاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے راستے میں اٹھنے والی تکلیف معمولی نہیں ہے۔
- ایمان بندے کو دل کی تنگی سے دور کرتا ہے۔
- بخل کو ایمان کے مزاج کے خلاف بتایا گیا ہے۔
- مومن کو اپنے دل کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔
