سنن نسائی حدیث ۳۱۵۳ - نبی صلى الله عليه وسلم کی شہادت کی تمنا
امت پر شفقت اور شہادت کی محبت
سنن نسائی : ۳۱۵۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۵۳
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ سَرِيَّةٍ ، وَلَكِنْ لَا يَجِدُونَ حَمُولَةً ، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ أُحْيِيتُ ، ثُمَّ قُتِلْتُ ، ثُمَّ أُحْيِيتُ ، ثُمَّ قُتِلْتُ ثَلَاثًا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری امت کے لیے یہ بات باعث تکلیف و مشقت نہ ہوتی تو میں کسی بھی فوجی ٹولی و جماعت کے ساتھ نکلنے میں پیچھے نہ رہتا، لیکن لوگوں کے پاس سواریوں کا انتظام نہیں، اور نہ ہی ہمارے پاس وافر سواریاں ہیں کہ میں انہیں ان پر بٹھا کر لے جا سکوں؟ اور وہ لوگ میرا ساتھ چھوڑ کر رہنا نہیں چاہتے۔ (اس لیے میں ہر سریہ (فوجی دستہ) کے ساتھ نہیں جاتا) مجھے تو پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں“، آپ نے ایسا تین بار فرمایا۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو باتیں صاف نظر آتی ہیں: امت پر شفقت اور اللہ کی راہ میں شہادت کی شدید محبت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری امت کے لیے مشقت نہ ہوتی تو میں کسی فوجی جماعت کے ساتھ نکلنے سے پیچھے نہ رہتا۔ پھر آپ نے وجہ بیان فرمائی کہ لوگوں کے پاس سواریاں نہیں، آپ کے پاس بھی اتنی سواریاں نہیں کہ سب کو ساتھ لے جا سکیں، اور لوگ آپ سے پیچھے رہنا پسند نہیں کرتے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں۔ اس حدیث میں شوق شہادت کے ساتھ امت کی آسانی کا خیال بھی موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امت کی مشقت کا خیال رکھتے تھے۔
- اللہ کی راہ میں شہادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب تھی۔
- قائد کو اپنے ساتھیوں کی طاقت اور سہولت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- نیک خواہش کے ساتھ لوگوں پر بوجھ نہ ڈالنا بھی حکمت ہے۔
