سنن نسائی حدیث ۳۱۵۴ - ہر سریہ کے ساتھ جانے کی خواہش

اللہ کی راہ کا شوق اور امت کا خیال

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۵۴

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ بِأَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي ، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ ، مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ ، ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ " .

ابوہریرہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر بہت سے مسلمانوں کے لیے یہ بات ناگواری اور تکلیف کی نہ ہوتی کہ وہ ہم سے پیچھے رہیں۔ (ہمارا ان کا ساتھ چھوٹ جائے) اور ہمارے ساتھ یہ دقت بھی نہ ہوتی کہ ہمارے پاس سواریاں نہیں ہیں جن پر ہم انہیں سوار کرا کے لے جائیں تو میں اللہ کے راستے میں جنگ کرنے کے لیے نکلنے والے کسی بھی فوجی دستہ سے پیچھے نہ رہتا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں“۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۵۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ اگر بہت سے مومنوں کے لیے یہ بات ناگوار نہ ہوتی کہ وہ آپ سے پیچھے رہیں، اور اگر سواریاں موجود ہوتیں جن پر انہیں ساتھ لے جایا جا سکے، تو آپ اللہ کے راستے میں نکلنے والے کسی بھی سریہ سے پیچھے نہ رہتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے راستے میں قتل ہونے، زندہ کیے جانے اور دوبارہ قتل ہونے کی خواہش بیان فرمائی۔ اس روایت میں شہادت کی محبت واضح ہے، مگر اس کے ساتھ ایک نرمی بھی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی کمزوری، سواری کی کمی اور دل کی کیفیت کا لحاظ رکھا۔ یہی نبوی انداز ہے کہ نیکی کا شوق ہو، مگر امت پر بلا وجہ مشقت نہ ڈالی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں نکلنے کا بڑا شوق رکھتے تھے۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھیوں کی کمزوری اور وسائل کی کمی کا خیال رکھتے تھے۔
  • شہادت کی محبت اس روایت میں بہت واضح ہے۔
  • نیکی میں رہنمائی کے ساتھ آسانی کا پہلو بھی ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں