سنن نسائی حدیث ۳۱۵۸ - قرض شہادت سے بھی باقی رہتا ہے
اللہ کی راہ میں شہادت اور قرض کا حق
سنن نسائی : ۳۱۵۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۵۸
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا ، مُحْتَسِبًا ، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ ، نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ قُلْتَ " فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، إِلَّا الدَّيْنَ ، كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام " .
ابوقتادہ روایت:
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اس بارے میں کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جاؤں، اور حال یہ ہو کہ میں نے ثواب کی نیت سے جم کر جنگ لڑی ہو، آگے بڑھتے ہوئے نہ کہ پیٹھ دکھاتے ہوئے، تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“ پھر جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دے کر اسے بلایا۔ (راوی کو شبہ ہو گیا بلایا) یا آپ نے اسے بلانے کے لیے کسی کو حکم دیا۔تو اسے بلایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے) کہا: ”تم نے کیسے کہا تھا“؟ تو اس نے آپ کے سامنے اپنی بات دہرا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، سوائے قرض کے سب معاف کر دے گا، جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۵۸ کا خلاصہ
اس روایت میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر وہ اللہ کے راستے میں قتل ہو جائے، اور اس نے ثواب کی نیت سے ثابت قدمی کے ساتھ لڑائی کی ہو، آگے بڑھتے ہوئے پیٹھ نہ دکھائی ہو، تو کیا اللہ اس کے گناہ معاف کر دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے فرمایا: ہاں۔ پھر جب وہ جانے لگا تو آپ نے اسے بلایا یا بلوانے کا حکم دیا اور اس کی بات دوبارہ سنی۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہاں، مگر قرض کے سوا؛ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اسی طرح بتایا ہے۔ یہ حدیث شہادت کی فضیلت کے ساتھ قرض کی سنگینی بھی بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے بندوں کا حق ادا کرنا بہت ضروری ہے، چاہے انسان بہت بڑا عمل کر رہا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شہادت کے اجر کے ساتھ نیت اور ثابت قدمی کا ذکر آیا ہے۔
- قرض ایک ایسا حق ہے جسے ادا کرنا ضروری ہے۔
- لوگوں کے حقوق بڑے اعمال کے باوجود باقی رہ سکتے ہیں۔
- دینی زندگی میں عبادت اور ذمہ داری دونوں ساتھ چلتے ہیں۔
