سنن نسائی حدیث ۳۱۵۹ - ایمان، جہاد اور قرض کا حق

ایمان اور جہاد کے ساتھ قرض کی ذمہ داری

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۵۹

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ : أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ ، أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ , إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ ، مُحْتَسِبٌ ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ، إِلَّا الدَّيْنَ ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي ذَلِكَ " .

ابوقتادہ روایت:

´ابوقتادہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے لوگوں کو (ایک دن) خطاب فرمایا: ”اور انہیں بتایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد اور اللہ پر ایمان سب سے بہتر اعمال میں سے ہیں“، (یہ سن کر) ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے، اگر میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو بخش دے گا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کر دیئے گئے، اور تم نے لڑائی ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ثواب کی نیت سے لڑی ہے پیٹھ دکھا کر بھاگے نہیں ہو تو قرض (حقوق العباد) کے سوا سب کچھ معاف ہو جائے گا۔ کیونکہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد اور اللہ پر ایمان بہترین اعمال میں سے ہیں۔ ایک شخص نے پوچھا کہ اگر میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ میرے گناہ معاف کر دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کیے گئے، صبر کے ساتھ، ثواب کی نیت سے، آگے بڑھتے ہوئے، پیٹھ نہ دکھاتے ہوئے۔ پھر آپ نے قرض کو مستثنیٰ فرمایا اور بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے ایسا ہی بتایا ہے۔ اس حدیث میں عمل کی شرطیں صاف بیان ہوئی ہیں: ایمان، اخلاص، صبر، ثابت قدمی اور فرار نہ ہونا۔ ساتھ ہی قرض کا حق باقی رہنے کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایمان اور اللہ کی راہ میں جہاد بہترین اعمال میں سے ہیں۔
  • شہادت کے اجر میں صبر، اخلاص اور ثابت قدمی کا ذکر ہے۔
  • قرض معاف نہیں ہوتا، کیونکہ یہ بندے کا حق ہے۔
  • آخرت کی فکر کے ساتھ دنیاوی ذمہ داریاں بھی ادا کرنی چاہئیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں