سنن نسائی حدیث ۳۱۶۰ - تلوار، صبر اور قرض کا استثنا
شہادت کا اجر، مگر قرض باقی
سنن نسائی : ۳۱۶۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۶۰
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا ، مُحْتَسِبًا ، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ، حَتَّى أُقْتَلَ ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، فَقَالَ : هَذَا جِبْرِيلُ يَقُولُ : إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ " .
ابوقتادہ روایت:
ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ منبر پر (کھڑے خطاب فرما رہے) تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں چلاؤں، ثابت قدمی کے ساتھ، بہ نیت ثواب، سینہ سپر رہوں پیچھے نہ ہٹوں یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے سبھی گناہوں کو مٹا دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پھر جب وہ جانے کے لیے مڑا، آپ نے اسے بلایا اور کہا: ”یہ جبرائیل ہیں، کہتے ہیں: مگر یہ کہ تم پر قرض ہو“ (تو قرض معاف نہیں ہو گا)۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں چلاؤں، صبر کے ساتھ، ثواب کی نیت سے، آگے بڑھتے ہوئے، پیچھے نہ ہٹتے ہوئے یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں، تو کیا اللہ میرے سب گناہ مٹا دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر جب وہ جانے لگا تو آپ نے اسے بلایا اور بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام کہتے ہیں: مگر یہ کہ تم پر قرض ہو۔ اس حدیث کا سبق بہت واضح ہے۔ اللہ کی راہ میں شہادت کا اجر عظیم ہے، لیکن قرض بندوں کا حق ہے۔ انسان کو نیکی کے بڑے کاموں کے ساتھ اپنے مالی معاملات بھی درست رکھنے چاہئیں۔ قرض، وعدہ اور لوگوں کے حقوق دینی زندگی کا حصہ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں صبر اور اخلاص کے ساتھ لڑنا بڑا عمل ہے۔
- شہادت گناہوں کے کفارے کا سبب بن سکتی ہے۔
- قرض کا حق شہادت کے بعد بھی باقی رہ سکتا ہے۔
- مسلمان کو اپنے مالی معاملات صاف رکھنے چاہئیں۔
