سنن نسائی حدیث ۳۲۰۲ - قرآن کے بدلے نکاح کا واقعہ
مہر نکاح اور قرآن کی قدر
سنن نسائی : ۳۲۰۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۰۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : أَنَا فِي الْقَوْمِ إِذْ قَالَتِ امْرَأَةٌ : إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَأْ فِيَّ رَأْيَكَ فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : زَوِّجْنِيهَا ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " ، فَذَهَبَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " أَمَعَكَ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَزَوَّجَهُ بِمَا مَعَهُ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ " .
سہل بن سعد روایت:
میں قوم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کے لیے اپنے آپ کو ہبہ کرتی ہوں، میرے متعلق آپ کی جیسی رائے ہو کریں، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا (اللہ کے رسول!) اس عورت سے میرا نکاح کرا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ (بطور مہر) کوئی چیز ڈھونڈھ کر لے آؤ اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“، تو وہ گیا لیکن کوئی چیز نہ پایا حتیٰ کہ (معمولی چیز) لوہے کی انگوٹھی بھی اسے نہ ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کیا تمہیں قرآن کی سورتوں میں سے کچھ یاد ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح اس عورت سے قرآن کی ان سورتوں کے عوض کرا دی جو اسے یاد تھیں۔
سنن نسائی حدیث ۳۲۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نکاح اور مہر کا ایک خاص واقعہ بیان ہوا ہے۔ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اپنے بارے میں آپ کو اختیار دیا۔ پھر ایک صحابی نے نکاح کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہر کے لیے کچھ تلاش کرو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔ جب وہ کچھ بھی نہ پا سکے تو آپ نے پوچھا کہ کیا تمہیں قرآن کی کچھ سورتیں یاد ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح ان سورتوں کے عوض کر دیا جو انہیں یاد تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کا معاملہ سنجیدہ ہے، مہر کا ذکر ضروری ہے، اور قرآن یاد ہونا بڑی قدر والی بات ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح میں مہر کا معاملہ واضح ہونا چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسانی کے ساتھ نکاح کا راستہ بتایا۔
- قرآن یاد ہونا ایک بڑی نعمت اور عزت کی بات ہے۔
- دین میں نکاح کو غیر ضروری مشکل نہیں بنایا گیا۔
