سنن نسائی حدیث ۳۲۶ - بچے ہوئے پانی سے وضو
بچے ہوئے پانی سے وضو کا حکم
سنن نسائی : ۳۲۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۶
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَضْلِهَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی نے غسل جنابت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے“ ۱؎۔
سنن نسائی حدیث ۳۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی ایک زوجہ نے غسل جنابت کیا، پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا۔ جب انہوں نے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ اس حدیث کا اصل موضوع پانی کی پاکی اور بچے ہوئے پانی سے وضو ہے۔ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف کسی کے غسل جنابت کے بعد بچا ہوا پانی خود بخود ناپاک نہیں ہو جاتا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے عمل سے بھی اس کی وضاحت فرمائی اور قول سے بھی بتایا۔ یہ حدیث پانی کی طہارت، وضو، غسل جنابت اور بچے ہوئے پانی کے بارے میں اہم رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل کے بعد بچا ہوا پانی خود بخود ناپاک نہیں ہوتا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے بچے ہوئے پانی سے وضو کر کے عملی تعلیم دی۔
- پانی کی پاکی کے بارے میں شک ہو تو حدیث کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
- حدیث میں پانی کی اصل پاکی کو واضح کیا گیا ہے۔
