سنن نسائی حدیث ۳۳۱ - آسانی کرو سختی نہیں
آسانی کرو سختی نہیں: مسجد کا واقعہ
سنن نسائی : ۳۳۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۳۱
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ " .
ابوہریرہ روایت:
ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو (پیشاب کر لینے دو)، اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو، اس لیے کہ تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ہو۔
سنن نسائی حدیث ۳۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک دیہاتی مسجد میں پیشاب کرنے لگا تو لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک بڑا اصول بتایا کہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ اس حدیث میں مسجد کی پاکی کا طریقہ بھی ہے اور لوگوں کے ساتھ نرمی کا سبق بھی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے غلطی کو درست کیا، مگر انداز سخت نہیں رکھا۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ دین کی تعلیم دیتے وقت آسانی، حکمت اور صفائی تینوں باتوں کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کی تعلیم میں آسانی اور نرمی کا انداز اختیار کرنا چاہیے۔
- مسجد میں نجاست ہو جائے تو پانی بہا کر جگہ پاک کی جائے۔
- غلطی کرنے والے سے معاملہ سمجھ داری کے ساتھ کیا جائے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سختی کے بجائے آسانی کا اصول سکھایا۔
