سنن نسائی حدیث ۳۳۲ - ٹھہرے پانی میں غسل جنابت

ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت کا حکم

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۳۲

أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے اس حال میں کہ وہ جنبی ہو“۔

سنن نسائی حدیث ۳۳۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے جبکہ وہ جنبی ہو۔ حدیث کا اصل موضوع ٹھہرے پانی میں غسل جنابت ہے۔ یہاں پانی کے استعمال کے ادب اور طہارت کے خیال کی بات آتی ہے۔ ٹھہرا ہوا پانی بہتے پانی کی طرح نہیں ہوتا، اس لیے نبی صلى الله عليه وسلم نے جنبی حالت میں اسی کے اندر غسل کرنے سے منع فرمایا۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر پیغام واضح ہے کہ پانی کو خراب یا مشتبہ بنانے والے عمل سے بچنا چاہیے۔ یہ روایت پانی کی پاکی، غسل جنابت اور اجتماعی استعمال کے پانی کے بارے میں احتیاط سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جنبی شخص کو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنے سے منع کیا گیا۔
  • پانی کے استعمال میں دوسروں کی ضرورت کا خیال رکھا جائے۔
  • طہارت کے مسائل میں نبی صلى الله عليه وسلم کی ممانعت کو اہم سمجھنا چاہیے۔
  • ٹھہرے ہوئے پانی کے ساتھ احتیاط کا معاملہ کیا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں