سنن نسائی حدیث ۳۳۰ - مسجد کی پاکی کا طریقہ
مسجد میں پیشاب پر نبی صلى الله عليه وسلم کی نرمی
سنن نسائی : ۳۳۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۳۰
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُزْرِمُوهُ ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ " .
انس روایت:
ایک دیہاتی مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو کچھ لوگ اس کی طرف بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نہ روکو (پیشاب کر لینے دو)“ جب وہ پیشاب کر چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگا کر اس پر بہا دیا۔
سنن نسائی حدیث ۳۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک دیہاتی کا واقعہ ہے جو مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ کچھ لوگ اسے روکنے کے لیے بڑھے، مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے نہ روکو۔ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک ڈول پانی منگوایا اور اس جگہ پر بہا دیا۔ اس حدیث میں مسجد کی پاکی، نجاست کو دھونے کا طریقہ، اور غلطی کرنے والے کے ساتھ نرمی کا انداز سامنے آتا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے پہلے نقصان بڑھنے سے روکا، پھر جگہ کو پانی سے پاک کرا دیا۔ اس روایت میں مسجد کا ادب بھی ہے اور صفائی کا عملی طریقہ بھی۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ نجاست کو پانی سے دور کیا جائے اور معاملہ سمجھ داری سے سنبھالا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد میں نجاست ہو جائے تو اسے پانی سے دھویا جائے۔
- غلطی کرنے والے کو روکنے میں حکمت اور نرمی ضروری ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے جلد بازی کے بجائے معاملہ مکمل ہونے دیا۔
- مسجد کی پاکی کا عملی طریقہ حدیث میں بیان ہوا۔
