سنن نسائی حدیث ۳۹۱۰ - مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
سنن نسائی : ۳۹۱۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۹۱۰
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأبِي الزُبَيرِ , عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ , وَالْمُحَاقَلَةِ , وَبَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يُطْعَمَ إِلَّا الْعَرَايَا " . تَابَعَهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ .
جابر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مخابرہ اور مزابنہ، محاقلہ سے اور ان پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے جو ابھی کھانے کے قابل نہ ہوئے ہوں، سوائے بیع عرایا کے۔ یونس بن عبید نے اس کی متابعت کی ہے۔
