سنن نسائی حدیث ۴۶ - پانی سے صفائی کی تاکید

پانی سے استنجاء کی تاکید ام المؤمنین عائشہ سے

سنن نسائیحدیث نمبر ۴۶

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قالت : " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَسْتَطِيبُوا بِالْمَاءِ ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ " .

عائشہ روایت:

تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کریں، کیونکہ میں ان سے یہ کہنے میں شرماتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔

سنن نسائی حدیث ۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عورتوں سے کہا کہ اپنے شوہروں کو پانی سے استنجاء کرنے کا کہیں، کیونکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ایسا کرتے تھے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں مردوں سے براہ راست یہ بات کہنے میں حیا محسوس کرتی ہوں۔ اس روایت میں دو باتیں بہت صاف ہیں: پہلی یہ کہ پانی سے استنجاء نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل میں شامل تھا، دوسری یہ کہ پاکیزگی کی بات حیا کے ساتھ بھی سکھائی جا سکتی ہے۔ یہاں لہجہ سخت نہیں، بلکہ اصلاحی ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ گھر کے اندر بھی طہارت کے آداب کی یاد دہانی ہو سکتی ہے، مگر انداز باحیا اور نرم ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پانی سے استنجاء نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
  • گھر میں طہارت کی بات نرم انداز سے سمجھائی جا سکتی ہے۔
  • حیا کے ساتھ دین کی ضروری بات پہنچانا درست ہے۔
  • پاکیزگی صرف فرد کا نہیں، گھر کے ماحول کا بھی حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں