سنن نسائی حدیث ۴۷ - برتن اور دائیں ہاتھ کے آداب
دائیں ہاتھ سے استنجاء اور برتن میں سانس کی ممانعت
سنن نسائی : ۴۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۷
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي إِنَائِهِ ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ " .
ابوقتادہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پانی پئیے تو اپنے برتن میں سانس نہ لے، اور جب قضائے حاجت کے لیے آئے تو اپنے داہنے ہاتھ سے ذکر (عضو تناسل) نہ چھوئے، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے“۔
سنن نسائی حدیث ۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے تین عملی آداب نقل ہوئے ہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی پانی پئے تو اپنے برتن میں سانس نہ لے۔ اور جب قضائے حاجت کے لیے آئے تو اپنے دائیں ہاتھ سے عضو تناسل کو نہ چھوئے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے۔ حدیث کا موضوع صفائی، پینے کے آداب اور دائیں ہاتھ کے احترام سے جڑا ہے۔ اس میں روزمرہ زندگی کی بہت عام عادتوں کو درست کیا گیا ہے۔ ایک مسلمان کھانے پینے، صفائی اور جسمانی ادب میں بھی نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت دیکھتا ہے۔ اس روایت میں خاص طور پر دائیں ہاتھ کو استنجاء سے بچانے کی تعلیم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پانی پیتے وقت برتن کے اندر سانس نہیں لینا چاہیے۔
- قضائے حاجت کے وقت دائیں ہاتھ سے عضو نہیں چھونا چاہیے۔
- دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
- روزمرہ آداب میں بھی نبی صلى الله عليه وسلم کی رہنمائی موجود ہے۔
