سنن نسائی حدیث ۴۸ - دائیں ہاتھ سے صفائی کی ممانعت

برتن میں سانس اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کا حکم

سنن نسائیحدیث نمبر ۴۸

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ وَأَنْ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَأَنْ يَسْتَطِيبَ بِيَمِينِهِ " .

ابوقتادہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے، داہنے ہاتھ سے عضو تناسل چھونے سے اور داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا۔

سنن نسائی حدیث ۴۸ کا خلاصہ

یہ حدیث پچھلی روایت کے ہم معنی ہے اور روزمرہ طہارت کے آداب کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا، دائیں ہاتھ سے عضو تناسل چھونے سے منع فرمایا، اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے بھی منع فرمایا۔ اس میں تین الگ مگر روزمرہ سے جڑے عمل آتے ہیں: پینے کا ادب، جسمانی ادب، اور صفائی کا ادب۔ عام زندگی میں یہ باتیں چھوٹی لگ سکتی ہیں، مگر حدیث انہیں واضح کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اپنے ہاتھوں کے استعمال میں بھی ادب کا خیال رکھتا ہے، خاص طور پر دائیں ہاتھ کو استنجاء جیسے کاموں سے بچاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • برتن میں سانس لینے سے بچنا چاہیے۔
  • دائیں ہاتھ سے عضو تناسل چھونے سے منع کیا گیا ہے۔
  • دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا جائے۔
  • طہارت اور پینے کے آداب دونوں روزمرہ دین کا حصہ ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں