سنن نسائی حدیث ۴۱ - استنجاء کے نبوی آداب
استنجاء کے آداب اور قبلہ کا احترام
سنن نسائی : ۴۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۱
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قال : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قال : قال لَهُ رَجُلٌ : إِنَّ صَاحِبَكُمْ لَيُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ . قال : أَجَلْ " نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا أَوْ نَكْتَفِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ " .
سلمان روایت:
ایک شخص نے (حقارت کے انداز میں) ان سے کہا: تمہارے نبی تمہیں (سب کچھ) سکھاتے ہیں یہاں تک کہ پاخانہ کرنا (بھی)؟ تو انہوں نے (فخریہ انداز میں) کہا: ہاں! آپ نے ہمیں پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور (استنجاء کے لیے) تین پتھر سے کم پر اکتفا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع استنجاء کے آداب ہے۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مسلمانوں کو زندگی کے ایسے کاموں میں بھی صاف طریقہ سکھایا جنہیں لوگ معمولی سمجھتے ہیں۔ حدیث میں تین باتیں صاف آتی ہیں: قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ نہ کیا جائے، دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا جائے، اور پتھروں سے صفائی ہو تو تین سے کم پر اکتفا نہ کیا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں پاکیزگی صرف نماز تک محدود نہیں، بلکہ روزمرہ صفائی، جسمانی ادب اور قبلہ کے احترام تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ دینی تعلیم کو شرم یا حقارت کے بجائے عزت سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قضائے حاجت کے وقت قبلہ کے احترام کا خیال رکھا جائے۔
- دائیں ہاتھ کو عزت والے کاموں کے لیے رکھا جائے، استنجاء کے لیے نہیں۔
- پتھروں سے صفائی ہو تو تین سے کم پر اکتفا نہ کیا جائے۔
- دین روزمرہ صفائی کے چھوٹے آداب بھی سکھاتا ہے۔
