سنن نسائی حدیث ۴۴ - تین پتھروں سے پاکی
تین پتھروں سے استنجاء اور طہارت
سنن نسائی : ۴۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۴
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ ، فَلْيَسْتَطِبْ بِهَا فَإِنَّهَا تَجْزِي عَنْهُ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے، اور ان سے پاکی حاصل کرے کیونکہ یہ طہارت کے لیے کافی ہیں“۔
سنن نسائی حدیث ۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کے لیے جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے اور ان سے پاکی حاصل کرے، کیونکہ یہ اس کے لیے کافی ہیں۔ اس سے استنجاء کے آداب کا ایک صاف اصول ملتا ہے۔ اگر پتھروں یا ڈھیلوں سے صفائی کی جا رہی ہو تو تین پتھر ایک مقرر حد کے طور پر بیان ہوئے ہیں۔ حدیث کا زور اس بات پر ہے کہ طہارت کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور انسان پہلے سے صفائی کا سامان ساتھ رکھے۔ یہ ہدایت سادہ ہے مگر روزمرہ پاکیزگی کے لیے بہت مفید ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قضائے حاجت سے پہلے صفائی کا سامان ساتھ رکھنا چاہیے۔
- تین پتھر استنجاء کے لیے کافی بتائے گئے ہیں۔
- طہارت کے معاملے میں پہلے سے تیاری بہتر ہے۔
- پاکی حاصل کرنا عبادت کی زندگی کا بنیادی ادب ہے۔
