سنن نسائی حدیث ۴۹ - قضائے حاجت کی مکمل رہنمائی

قضائے حاجت کے آداب: دائیں ہاتھ، قبلہ اور تین پتھر

سنن نسائیحدیث نمبر ۴۹

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَشُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفَيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قال : قال الْمُشْرِكُونَ : إِنَّا لَنَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمُ الْخِرَاءَةَ ، قال : أَجَلْ " نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ وَيَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ ، وَقَالَ : لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ " .

سلمان روایت:

مشرکوں نے (حقارت کے انداز میں) کہا کہ ہم تمہارے نبی کو دیکھتے ہیں کہ وہ تمہیں پاخانہ (تک) کی تعلیم دیتے ہیں، تو انہوں نے (فخریہ) کہا: ہاں، آپ نے ہمیں داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور (بحالت قضائے حاجت) قبلہ کا رخ کرنے سے منع فرمایا، نیز فرمایا: ”تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم میں استنجاء نہ کرے“۔

سنن نسائی حدیث ۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سلمان رضی اللہ عنہ نے مشرکوں کے اعتراض کے جواب میں فخر سے کہا کہ ہمارے نبی صلى الله عليه وسلم ہمیں قضائے حاجت تک کی تعلیم دیتے ہیں۔ پھر انہوں نے تین ہدایات بیان کیں: دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا جائے، قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ نہ کیا جائے، اور تین پتھروں سے کم میں استنجاء نہ کیا جائے۔ اس حدیث میں اسلام کی پاکیزہ تعلیم بہت سادہ انداز میں سامنے آتی ہے۔ دین انسان کو صرف مسجد کے اعمال نہیں سکھاتا، بلکہ تنہائی کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ استنجاء کے آداب، قبلہ کا احترام اور دائیں ہاتھ کا ادب اس روایت کے بنیادی نکات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین قضائے حاجت جیسے نجی کام کے آداب بھی سکھاتا ہے۔
  • دائیں ہاتھ سے استنجاء نہیں کرنا چاہیے۔
  • قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ ہونے سے منع کیا گیا ہے۔
  • پتھروں سے صفائی ہو تو تین سے کم استعمال نہ کیے جائیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں