سنن نسائی حدیث ۵۰ - استنجاء کے بعد ہاتھ رگڑنا

استنجاء کے بعد ہاتھ زمین پر رگڑنے کا ادب

سنن نسائیحدیث نمبر ۵۰

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ، فَلَمَّا اسْتَنْجَى دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، جب آپ نے (اس سے پہلے) استنجاء کیا تو اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا۔

سنن نسائی حدیث ۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے وضو کیا، اور جب اس سے پہلے استنجاء کیا تو اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا۔ حدیث کا مرکزی موضوع استنجاء کے بعد ہاتھ کی صفائی ہے۔ اس میں پانی کے استعمال کے بعد بھی ہاتھ کو زمین پر رگڑنے کا عمل بتایا گیا ہے۔ اس سے عام فہم انداز میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ طہارت میں صرف جلدی ختم کرنا مقصود نہیں، بلکہ صفائی کو اچھی طرح پورا کرنا بھی مطلوب ہے۔ حدیث مختصر ہے، اس لیے اس سے اتنا ہی لیا جائے گا کہ استنجاء کے بعد ہاتھ کی صفائی کا خاص خیال رکھا گیا۔ یہ عمل روزمرہ پاکیزگی کی تربیت دیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • استنجاء کے بعد ہاتھ کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ہاتھ زمین پر رگڑ کر صفائی کا عملی ادب دکھایا۔
  • وضو سے پہلے طہارت کا اہتمام کیا گیا۔
  • صفائی میں جلد بازی کے بجائے احتیاط بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں