سنن نسائی حدیث ۴۸۲ - مزدلفہ میں مغرب و عشاء
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء پڑھنے کا طریقہ
سنن نسائی : ۴۸۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۸۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قال : رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍ " أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى يَعْنِي الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ " . ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَنَعَ بِهِمْ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ .
سلمہ بن کہیل روایت:
میں نے سعید بن جبیر کو مزدلفہ میں دیکھا، انہوں نے اقامت کہی، اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر اقامت کہی، اور عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر انہوں نے ذکر کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ان کے ساتھ اسی جگہ میں ایسا ہی کیا، اور ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) اس جگہ میں ایسا ہی کیا تھا۔
سنن نسائی حدیث ۴۸۲ کا خلاصہ
یہ حدیث مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز کے طریقے کو صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ سلمہ بن کہیل نے سعید بن جبیر کو دیکھا کہ انہوں نے پہلے اقامت کہی اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پھر دوبارہ اقامت کہی اور عشاء کی دو رکعتیں پڑھائیں۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے بھی اسی جگہ یہی عمل کیا تھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے یہ بھی ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں ایسا ہی کیا۔ اس حدیث کا مرکزی سبق یہ ہے کہ حج کے موقع پر مزدلفہ کی نماز میں نبوی طریقے کی پیروی کی جائے۔ اس میں مغرب کی رکعتیں پوری رہیں اور عشاء دو رکعت پڑھی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مزدلفہ میں مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت پڑھنے کا عمل حدیث سے ثابت ہے۔
- ہر نماز کے لیے الگ اقامت کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبوی عمل کو اسی جگہ اور اسی انداز سے ادا کرتے تھے۔
