سنن نسائی حدیث ۴۸۴ - مغرب و عشاء الگ اقامت
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء الگ اقامت سے
سنن نسائی : ۴۸۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۸۴
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ ، قال : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ ، قال : " صَلَّى بِنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا بِإِقَامَةٍ ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ " . ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ .
حکم روایت:
ہمیں سعید بن جبیر نے مزدلفہ میں ایک اقامت سے مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر (دوسری اقامت سے) عشاء کی دو رکعت پڑھائی، پھر ذکر کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے ایسا ہی کیا، اور انہوں نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) ایسا ہی کیا تھا۔
سنن نسائی حدیث ۴۸۴ کا خلاصہ
یہ روایت بھی مزدلفہ میں نماز کے طریقے سے متعلق ہے۔ حکم بیان کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر نے مزدلفہ میں لوگوں کو پہلے ایک اقامت سے مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، اس کے بعد دوسری اقامت سے عشاء کی دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے بھی ایسا ہی کیا، اور انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اس حدیث میں مزدلفہ کی نماز، مغرب عشاء جمع کرنے کا طریقہ، اور ہر نماز کے لیے اقامت کا ذکر خاص طور پر آتا ہے۔ روایت کا مقصد یہی ہے کہ اس مقام پر نماز کا وہ طریقہ بتایا جائے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مزدلفہ میں مغرب کے بعد سلام پھیر کر عشاء پڑھی گئی۔
- مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت ادا کی گئی۔
- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے اس عمل کو نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے منسوب کیا۔
