سنن نسائی حدیث ۴۸۵ - ابن عمر کا عمل مزدلفہ میں
ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مزدلفہ کی نماز کا عمل
سنن نسائی : ۴۸۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۸۵
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ ، قال : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، قال : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قال : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " صَلَّى بِجَمْعٍ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ " ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي هَذَا الْمَكَانِ .
سعید بن جبیر روایت:
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کو مزدلفہ میں نماز پڑھتے دیکھا، انہوں نے اقامت کہی، اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر (دوسری اقامت سے) عشاء کی دو رکعت پڑھی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۴۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سعید بن جبیر اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کو مزدلفہ میں نماز پڑھتے دیکھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے اقامت کہی، پھر مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں، اس کے بعد عشاء کی دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر انہوں نے صاف کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ ایسا کرتے دیکھا ہے۔ اس روایت میں مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نماز کا طریقہ براہ راست صحابی کے عمل اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے جڑا ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عبادت کے طریقے میں اپنی رائے نہیں چلاتے تھے، بلکہ جو دیکھا اور سنا، اسی کو آگے پہنچاتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نماز کے طریقے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی کی۔
- مزدلفہ میں مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت پڑھنے کا عمل بیان ہوا۔
- دینی عمل نقل کرتے وقت اصل نسبت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تک پہنچائی گئی۔
