سنن نسائی حدیث ۴۸۹ - قبلہ بیت المقدس سے کعبہ
قبلہ کی تبدیلی: بیت المقدس سے خانہ کعبہ
سنن نسائی : ۴۸۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۸۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قال : " صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا شَكَّ سُفْيَانُ ، وَصُرِفَ إِلَى الْقِبْلَةِ " .
براء بن عازب روایت:
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، یہ شک سفیان کی طرف سے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ (خانہ کعبہ) کی طرف پھیر دئیے گئے۔
سنن نسائی حدیث ۴۸۹ کا خلاصہ
یہ حدیث قبلہ کی تبدیلی کے بارے میں ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ راوی سفیان کی طرف سے شک ہے کہ مدت سولہ مہینے تھی یا سترہ مہینے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ یعنی خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔ اس حدیث میں بڑی سادگی سے بتایا گیا ہے کہ نماز میں رخ پہلے بیت المقدس کی طرف تھا، پھر حکم کے بعد کعبہ کی طرف ہو گیا۔ اس کا مرکزی موضوع تبدیلی قبلہ ہے۔ روایت ہمیں یہ بھی دکھاتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابتدا میں نماز بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی گئی۔
- بعد میں قبلہ خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔
- روایت میں مدت کے بارے میں راوی کا شک امانت کے ساتھ نقل کیا گیا۔
